پاکستان کے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی حملے، ڈرون نیٹ ورک نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاکستان نے جمعرات کو افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ وہ مقامات تھے جہاں سے پاکستان کے خلاف ڈرون حملے کیے جا رہے تھے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اعلان کیا کہ حملے جان بوجھ کر، درست، متناسب اور صرف ان شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود تھے جو پاکستان کے خلاف کوشش شدہ حملوں سے براہِ راست منسلک تھے۔
روئٹرز کے مطابق تارڑ نے بتایا کہ پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بدھ کے روز افغان سرزمین سے چھوڑے گئے ڈرونز کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا تھا۔ افغانستان کے صوبہ خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گربز کے مطابق حملے صوبے کے متعدد علاقوں میں کیے گئے اور ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کے روز ان حملوں کی تردید کی تھی، جب کہ افغان حکام نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز کوہاٹ اور طورخم کی جانب بڑھنے والے آٹھ ابتدائی ڈرونز کو مار گرایا گیا اور سرحدی چوکیوں پر ہونے والی گولہ باری کا جواب بھی دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے؛ گذشتہ ہفتے کوہاٹ میں ایک پولیس کمپلیکس پر خودکش حملے اور فائرنگ میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد پاکستان نے پیر کو افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
ذرائع:
روئٹرز: Pakistan says it launched air strikes on Afghanistan over drone attacks
ایسوسی ایٹڈ پریس: Pakistan Strikes Afghanistan After Drone Attack Accusations